منگلورو :6/مارچ (ایس او نیوز)پسماندہ طبقات پر ظلم وستم اور ذات پات کے نظام کو دوبارہ نافذ کرنےکی سیاسی کوشش سے عوام کو غلط را ہ پر لے جانے کی سازش چل رہی ہے۔ جن ریاستوں میں دستور پر یقین رکھنے والوں کی حکومت ہے وہاں چوطرفہ ترقی ہونےکا راجیا سبھا ممبر بی کے ہری پرساد نے خیال ظاہر کیا۔
وہ یہاں منگلورو یونیورسٹی کے برہم شری نارائن گرو سنٹر کے زیر اہتمام سمینار ہال میں برہم شری نارائن گرو کی حیات اور اصول کے عنوان پر توسیعی خطبات پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کررہے تھے۔ اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے ہری پرساد نے کہاکہ ملک میں ذات پات کےنظام کو دور کئے جانےکے باوجود کچھ ریاستوں میں 20فی صد سے بھی کم ریزرویشن دی جارہی ہے، جس سے پرانے ذات پات کے نظام کی یاد تازہ ہوجاتی ہے، جن ریاستوں پر ذات پات کے نام پر تفریق کی جارہی ہے وہاں ترقی سست روی کا شکار ہے۔ برہم شری نارائن گروکی حیات پر ہمارے طلبا تحقیق کرکے ساری دنیا کے ان کے پیغام سے روشناس کرانے کی اپیل کی۔
19ویں صدی میں صرف کیرلا میں نہیں بلکہ ملک کے مختلف علاقوں میں ورن آشرم ، ذات پات کی تفریق کا دور دورہ تھاان حالات میں نارائن گرو ، مہاتما پھولے ، بسویشور ، پیرییار سوامی ، گرونانک جیسے سماج سدھارکوں نے جدوجہد کرتے ہوئے سماج میں نئی تبدیلی پیدا کی۔ مساوات اور یک جہتی کا پیغام دیتے ہوئے سماج کو نئی راہ دکھائی ۔ کیرلا یونیورسٹی کے سنٹر فار ٹرا نسلیشن اسٹیڈیز کے ڈائرکٹر ڈاکٹر این سریش نے 19ویں صدر نارائن گرو کی طرف سے جاری کردہ ’’نوؤدیا ‘‘ نامی جدوجہد پر اپنے مقالہ پیش کیا۔ اپنے بچپن میں ذات پات کے نظام سے متاثر ہوئے نارائن گرو نے کیرلا کے الیوا اور نائر طبقات کے درمیان جاری نسلی کشمکش کو دو ر کرکے ایک ذات، ایک جنس اور ایک دھرم کی تعلیم کوعام کیا۔ منگلورو یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر کے بھئیرپا نے صدارت کی۔ سنٹر کے ڈائرکٹر مدو موڈبیلے نے افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ یونیورسٹی رجسٹرار پروفیسر کے ایم لوکیش نے استقبا ل کیا تو ڈاکٹر سوجیا سورنا نے نظامت کی پروفیسر اسماعیل نے شکریہ اداکیا۔